دل کا اطمینان کہاں سے لاؤں؟


اج خلاف معمول میری نماز فجر فوت ہوئ. جس کا مجھے انتہائی صدمہ ہوا. قضا نماز کی ادائیگی کے ساتھ جائے نماز پہ بیٹھا اپنے شب و روز کا جائزہ لے رها تها اور سوچ رہا تھا کہ آخر مجهے دلی اطمینان کیوں نہیں ؟؟؟ صوم و صلاة کی پابندی کے ساتھ ساتھ قران خوانی اور سنت رسول کے مطالعہ ، حقوق الله اور حقوق العباد کا خیال رکھنے والا،حلال و حرام کی تمیز کرنے کے باوجود اخر مجھے دلی اطمینان کیوں نہیں؟؟؟؟
اپنے شب و روز کا ناقدانہ جائزہ لینے کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا کہ هم واقعی غافل هیں.قران کو نہ هم نے اپنی زاتی زندگی میں سمویا هے اور نہ اجتماعی زندگی میں.هم میں سے کتنوں نے خود قرآن کو سمجها ؟ اپنے اهل و اعیال کو سمجایا؟ اور اپنی زاتی ، گهریلو اور معاشرتی زندگیوں میں اس کی تعلیمات کو عام کر کے ایک معاشرہ تشکیل دیا. کیا الله تعالیٰ نے همیں صرف اس لیے پیدا کیا کہ هم روزانہ صبح سویرے اٹھ کر اچهے کپڑے پہن کر رزق حلال کے پیچھے بهاگے اور اپنے بچوں کو اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم دلا کر شام کو دوستوں اور گھر والوں کی محفلوں میں بیٹھ کر اپنا وقت گزاریں.
میری بڑی بیٹی ماشاءاللہ سات سال کی هونے والی هے. کچھ دن پہلے جب رات کو میں کلنیک سے گهر پہنچا تو میں نے اپنی بیوی اور بہن کو کہا کہ کل سے اقصٰی (میری بیٹی) سکول نہیں جا ئگیں. سارے گهر والوں نے انتہائ حیرت اور غصہ سے میری طرف دیکھا اور اس کی وجہ پوچنے لگے . میں نے کہا کہ بس بغیر کوئی وجہ میں اس کو سکول جانے نہیں دونگا. وہ طرح طرح کے دلائل دینے لگے اور مجھے قائل کرنے کی کوشش کرنے لگے. تب میں نے بتایا کہ اپ لوگوں کو کتنی فکر ہے اس کے سکول نا جانے کا؛ وہ بھی صرف اور صرف اس وجہ سے کہ اگر یہ اج سکول نہیں جا ئگیں تو کل کو اس معا شرے میں اسکا کوئی مقام نہیں هوگا. اور اسی بات پہ هم سب کا ایمان کی حد تک یقین هے ک اگر همارے بچے ڈاکٹر ، انجینئر،پائلٹ، وغیرہ نہ بنے تو معاشرے میں ان کو قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھا جائگا. لیکن هم میں سے کتنوں کو اس کا خیال هے ک آئیں پہلے اپنے بچوں سے انسان تو بنا دے. اور قرانی تعلیمات کی روشنی میں ان کی بلند ترین اخلاقی، معاشرتی اور سماجی تربیت کریں. ان کے اندر ابتدا هی سے ایسے اوصاف پیدا کئے جائیں کہ وہ هر لحاظ سے دنیا و اخرت میں کامیاب ترین انسان بن کر اس معاشرے میں مثبت کردار ادا کریں.
همیں سب سے پہلے اپنے بچوں کی دینی تربیت اور اخلاقی معیار کے متعلق کام کرنا هوگا. قرانی نظام حیات کو اپنے گھر میں لانا هو گا. اور یہی سے شروعات کر کے ایک بہترین معاشرے کی بنیاد رکھنے کا عهد کرنا هوگا. تب کہیں جا کے همیں دلی اطمینان نصیب هوگا۔

ڈاکٹر نور الامین

Leave a comment

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s