بے حس معاشرے میں قربانی کی عظیم داستان


دنیا میں سب سے زیادہ عظم رشتہ ماں کا ہے جو ماں اپنے بچوں سے عظیم محبت رکھتی ہے ماں اپنے بچے کو کبھی معمولی دکھ درد میں بھی نہیں دیکھ سکتی براعظم ایشاء میں ایک مثال مشہور ہے کہ ماں خود توگیلے بستر پر لیٹ جاتی ہے لیکن یہ گوارہ نہیں کرتی کہ اس کا پیارا بچہ گیلے بستر پر لیٹے اس طرح ماں باپ یا بہت ہی قریبی رستہ داروں کو تو اپنوں کے لیے آگ وپانی میں کودتا سنا ہے لیکن کسی دوسرے کی اولاد کی خاطر اپنآآپ کو قربان کرنے کا جذبہ بہت ہی کم لوگوں میں ہوتا ہے .

آج کے اس بے حسی کے دور میں جب کسی کو دوسرے کی خبر نہیں ایک شفیق استادنصراللہ شجیع اپنے شاگرد کو بچانے کے لیے دریا میں کود گیا۔عثمان پبلک سکول کا تفریحی ٹورسکول کے پرنسپل نصراللہ شجیع کی قیادت میں لاہور اور دیگر مقامات سے ہوتا ہوا بالاکوٹ پہنچا ۔طالب علم ادھر ادھر بیٹھ کر گپ شپ لگانے لگے اور کچھ تصاویر بنانے میں مشغول ہوگیئے ۔ اچانک ایک طرف سے شور اٹھا ۔پرنسپل نصراللہ شجیع اور دیگر استاتذہ اور بچے قریب پہنچے تو دیکھا ایک طالب علم سفیان دریا ئے کنہار کے تیز پانی میں ڈوب رہاتھا ۔ایک بہادر اور شفیق استاد سے یہ منظر دیکھا نہ گیا اور نصراللہ شجیع نے بچے کو بچانے کے لیے تیز پانی میں چھلانگ لگا دی عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ نصراللہ شجیع کا پانی میں چھلانگ لگاتے وقت سر ایک پتھر سے ٹکرایا تھا۔یہ تو دیکھا ہے کہ ماں باپ اپنے بچوں کی محبت میں دریا میں کود جائے لیکن کسی دوسرے کی اولاد کی خاطر ایسی قربانی کا حوصلہ کسی کسی میں ہی ہوتا ہے یہ تاثرات مقامی تاجر حضرات کے تھے ۔

نصراللہ شجیع اور طالب علم سفیان تاحال دریا میں لاپتہ ہی ہیں ان کی تلاش جاری ہے ۔نصراللہ شجیع ایک استاد ہونے کے ساتھ ساتھ سیاستدان بھی ہے آپ نے اپنی سیاست کا آغاز دور طالب علمی سے اسلامی جمیعت طلبہ کے پلیٹ فارم سے کیا ۔کراچ ی جمیعت کے ناظم رہے آپ نے جامعہ کراچی سے ماسٹرز کی ڈگری لی اور تعلیم سے فراغت کے بعد جماعت اسلامی کے ساتھ وابستہ ہوگئے ۔کراچی کے حلقہ پی ایس 116آپ ایم ایم اے دور میں ایم پی اے رہ چکے ہے ۔نصراللہ شجیع عوام میں گھل مل کر رہنا والا سیاسدان تھا جس کے گھر کا دروزہ اہلیان کراچی کے لیے ہر وقت کھلا رہتا کوئی بھی رات کے کسی بھی پہر نصراللہ شجیع کے پاس اپنا دکھ لیے کر آسکتاتھا ہر وقت دوسروں کی مدد کے لیے تیار رہنے والا نصراللہ شجیع کیسے اپنے ایک شاگرد کو اپنی آنکھوں کے سامنے پڑپتا اور ڈوبتا دیکھ سکتاتھا ۔

نصراللہ شجیع کے تین چھوٹے چھوٹے بچے ہیں اس نوجوان نے آج ایک استاد کی بھی لاج رکھی ایک سیاستدان کی بھی لاج رکھی اور قربانی کی ایک ایسی مثال بن گیا کہ آج کے بے حس دور میں تو بھائی بھائی کے لیے بھی ایسی قربانی دینے کو تیار نہیں ہوتا ۔مجھے آج ایک اور استاد بھی یاد آرہی ہے ۔منگوال میں ایک سکول وین کو آگ لگ گئی جس پر ٹیچر سمعیہ نورین نے اپنی جان کی پراہ کیے بغیر بچوں کو بچاتے بچاتے اپنی جان دے دی تھی ۔اتفاق کی بات ہے ٹیچر سمعیہ نورین کا بھی تعلق جماعت اسلامی سے تھا اور آج ایک بچے کو بچانے کے لیے پانی میں چھلانگ لگانے والا نصراللہ شجیع استاد ہونے کے ساتھ ساتھ جماعت اسلامی کراچی کا نائب امیر ہے۔

یہ فرد ایسا دل عزیزسیاستدان اور استاد تھا کہ ان کے شاگرد اور کارکن دھاڑے مار مار کر اپنے عظیم استاد اور قائد کی خیرت کی دعائیں کرتے رہیے اور کر رہے اور شوشل میڈیا پر بھی نصراللہ شجیع کے حوالے سیہی زیادہ دعایۂ کلمات دیکھنے کو ملے تاحال نصراللہ شجیع اور طالب علم سفیان کی تلاش جارہ ہے دعا کرئے اللہ آسانیاں فرمائے امین

Advertisements
Leave a comment

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s